6 اشعار

ابھی وہ زد میں نہیں ہے مگر نشانے پہ ہے

Abhi woh zad mein nahi hai magar nishaane pe hai

ابھی وہ زد میں نہیں ہے مگر نشانے پہ ہےکہ تیر ہاتھ میں ہے اور نظر نشانے پہ ہے

وہ معرکہ ہے کہ کچھ بھی سمجھ میں آتا نہیںکہاں ہے مار پہ دل اور کدھر نشانے پہ ہے

نشاں لگا کے جو رکھتا ہے اپنے گھر کے گرداسے خبر ہو کہ اب اس کا گھر نشانے پہ ہے

کھلا کہ اب ہے فقط گمرہی میں عافیتکہ جو کوئی ہے یہاں راہ پر نشانے پہ ہے

نظر میں گھومتی رہتی ہے کوئی قاتل آنکھسو جس طرف بھی ہو دل سربسر نشانے پہ ہے

نکال تو بھی کوئی عیب آفتاب حسینؔکہ یہ وہ شہر ہے جس میں ہنر نشانے پہ ہے

— آفتاب حسین