7 اشعار

بھلا کب تک یوںہی یہ کار ایثاری کریں گے ہم

Bhala kab tak yunhi yeh kar-e-isaari karenge hum

بھلا کب تک یوںہی یہ کار ایثاری کریں گے ہمکہ وہ چوری کیے جائیں گے اور یاری کریں گے ہم

خلوص خواب و خواہش اب کسی کو خوش نہیں آتاچلو اچھا ہے آئندہ اداکاری کریں گے ہم

وہ خوشبو ہے تو اس کو چوم کر رکھ لیں گے سینے میںوہ نشہ ہے تو اپنے آپ پر طاری کریں گے ہم

بہت معصوم ہو تم لیکن اتنا تو سمجھ ہی لوتم ایسوں سے بھلا کیا کوئی عیاری کریں گے ہم

خمار خواب سے آگے ہی چلنا ہو گیا دوبھرتمنا کی یہ گٹھری اور کیا بھاری کریں گے ہم

زباں پر ایک مدت سے کسیلا پن تو ہے لیکناب ایسا بھی نہیں ہر سمت منہ ماری کریں گے ہم

بہت دن ہو گئے ہیں جاگتی آنکھوں کے خوابوں میںاب اپنی نیند میں تھوڑی سی بے داری کریں گے ہم

— آفتاب حسین