5 اشعار

جو ناگوار ہے وہ بھی گوارہ کرتے ہوئے

Jo naagawar hai woh bhi gawara karte hue

جو ناگوار ہے وہ بھی گوارہ کرتے ہوئےگزر رہا ہوں یہاں سے گزارہ کرتے ہوئے

وہ اپنی لہر میں ہے اور میں اپنی موج میں ہوںاور اس کے ساتھ ہوں اس سے کنارہ کرتے ہوئے

خیال میں رہے خوابوں کی بے لباسی بھیہمارے چاک گریباں کا چارہ کرتے ہوئے

نہ بات کہنے کی مہلت ہے اور نہ سننے کیچلے چلو یوںہی ایک آدھ اشارہ کرتے ہوئے

وہ روشنی کے بھنور ہیں کہ آفتاب حسینؔنظر ٹھہرتی نہیں ہے نظارہ کرتے ہوئے

— آفتاب حسین