4 اشعار

اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گا

Agar milega kahin kuch to kuch ganwa ke milega

اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گاسراغ اپنا بھی اپنے سے دور جا کے ملے گا

ہوس کی راہ سے نکلو اگر نہیں ہے محبتیہ راستہ بھی اسی راستے سے جا کے ملے گا

یہ بے رخی ہے جو اس کی ہے صرف صرف نظر تکنظر ملائے گا ہم سے تو مسکرا کے ملے گا

بس ایک دھیان کی دھونی رما کے بیٹھ گئے ہیںکہ ہے کوئی جو ہمارا تو ہم سے آ کے ملے گا

— آفتاب حسین