7 اشعار

خود اپنی دھند سے ہوتا نکل بھی سکتا ہوں

Khud apni dhund se hota nikal bhi sakta hoon

خود اپنی دھند سے ہوتا نکل بھی سکتا ہوںمیں آج تک نہیں نکلا نکل بھی سکتا ہوں

ترے افق پہ نکل کر غروب ہوتے ہوئےکسی طرف سے دوبارہ نکل بھی سکتا ہوں

بہت امید نہیں ہے مری نمو کی مگرکہیں کہیں سے ذرا سا نکل بھی سکتا ہوں

نہ کر غرور بہت صید افگنی پہ کہ میںتمھارے دام میں آتا نکل بھی سکتا ہوں

میں چاہتا ہوں کہ اب کوئی میرے ساتھ چلےاک ایسی رہ پہ کہ تنہا نکل بھی سکتا ہوں

میں اس طرح کا نہیں پھر بھی آدمی ہی تو ہوںحضر کرو کہ میں ایسا نکل بھی سکتا ہوں

ڈٹا ہوا ہوں محبت میں آفتاب حسینؔاگرچہ جان بچاتا نکل بھی سکتا ہوں

— آفتاب حسین