7 اشعار

عجیب دن ہیں کہ لگتا ہے رات چل رہی ہے

Ajab din hain ke lagta hai raat chal rahi hai

عجیب دن ہیں کہ لگتا ہے رات چل رہی ہےجو ہو چکی ہے وہی واردات چل رہی ہے

ہزار حرف گرہ ہو کے رہ گئے دل میںکلام ختم ہوا اور بات چل رہی ہے

ہوائے موسم جاں تیرے دم قدم سے ہےمیں چل رہا ہوں کہ تو میرے ساتھ چل رہی ہے

رکے جو دل تو زمانے کی سانس رک جائےسو چل رہا ہے تو یہ کائنات چل رہی ہے

چلو ہوئی تو ہے کچھ چہل پہل سینے میں بھیجنازا جا رہا ہے یا برات چل رہی ہے

گزر کے آیا ہوں اک شام مرگ رنگ سے میںاب ایک صبح قیامت سے بات چل رہی ہے

رواں دواں ہوں قدم سے قدم ملائے ہوئےکہ ساتھ ساتھ رہ مشکلات چل رہی ہے

— آفتاب حسین