9 اشعار

تلاش کرتا ہے ہر شے میں کوئی دوسری چیز

Talash karta hai har shai mein koi doosri cheez

تلاش کرتا ہے ہر شے میں کوئی دوسری چیزجو غور کیجیے تو آدمی بھی ہے بڑی چیز

مرے بھی کام تو آیا ی عالم اشیااگرچہ تھی مجھے درکار اور ہی کوئی چیز

اگر زمیں کی یہ گردش ٹھہر بھی جائے تو کیامرے دماغ میں ہے کوئی گھومتی ہوئی چیز

خرید پائیں نہ پائیں نظر تو ڈالتے جائیںدکان دہر میں رکھی ہے کیسی کیسی چیز

ہمارے دل میں ہے جو کچھ تمھارے سامنے ہےدکھاؤ اب ہمیں تم بھی تو کوئی اپنی چیز

ہم اپنے نشہ میں ہیں اور بہکتے جائیں گےپڑی رہے گی یوںہی طاق پر دھری ہوئی چیز

خمیر خواب سے دنیا بناتا رہتا ہوںمرے بھی ہاتھ لگی ہے یہ کیا کمال کی چیز

چپک کے رہ گئی تالو سے تلخیٔ ایامکہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں میں کوئی میٹھی چیز

یہ زندگی کبھی آ کر وصول کر لیجےبہت دنوں سے امانت پڑی ہے آپ کی چیز

— آفتاب حسین