10 اشعار

شفا کی خاک تھی یا پھر ہنر کی مٹی تھی

Shifa ki khaak thi ya phir hunar ki mitti thi

شفا کی خاک تھی یا پھر ہنر کی مٹی تھیسفر میں بھی مرے ہم راہ گھر کی مٹی تھی

یہ دھول بیٹھے کسی دن تو بیٹھ کر سوچیںکہاں اڑی ہوئی تھی کس نگر کی مٹی تھی

کہیں وجود کے اندر بھی کوئی رستہ تھادرون خانہ بھی کچھ رہ گزر کی مٹی تھی

سپیدۂ سحری تھا کہ میری آنکھوں میںغبار خواب تھا اور رات بھر کی مٹی تھی

جو گرد رخ پہ تھی اشکوں نے صاف کی لیکنپڑی رہی یوںہی سر پر جو سر کی مٹی تھی

یہ میں جو دھوپ میں جلتا تھا اور پھلتا تھامری سرشت میں شاید شجر کی مٹی تھی

عجب نہیں جو نہیں مجھ میں انکسار کی خومٹی مٹی سی مرے بام و در کی مٹی تھی

وہ شور جیسے سماعت میں کوئی شورش ہووہ گردباد کہ لگتا تھا شر کی مٹی تھی

مری اڑان کہ تھی سات آسمانوں تکمری نظر میں مرے مستقر کی مٹی تھی

جو گرد اڑی بھی تو مخفی تھی چشم بدبیں سےہمارے عیب میں ایسی ہنر کی مٹی تھی

— آفتاب حسین