6 اشعار

عجیب طرح کا یہ اہتمام مجھ سے ہوا

Ajeeb tarah ka yeh ehtemaam mujh se hua

عجیب طرح کا یہ اہتمام مجھ سے ہواوہ تیغ تیز تھا اور بے نیام مجھ سے ہوا

بہت سے لوگ تھے اس راستے میں خاک بسرمگر یہ راستہ آخر تمام مجھ سے ہوا

گزر کے آیا ہوں میں روندتا ہوا خود کوکسی کا کام تھا لیکن یہ کام مجھ سے ہوا

وہ راستے تھے کہ چلتے تھے میرے خون کے ساتھرکا بھی میں تو بھلا کب قیام مجھ سے ہوا

مری بجھی ہوئی آنکھوں میں لو چمک اٹھیمیں مر رہا تھا کہ وہ ہم کلام مجھ سے ہوا

حرام موت تو میرے نصیب میں نہیں تھییہی ہوا ہے کہ جینا حرام مجھ سے ہوا

— آفتاب حسین