6 اشعار

تنی ہی رہتی ہے تلوار سی کوئی مرے سر پر

Tani hi rehti hai talwar si koi mere sar par

تنی ہی رہتی ہے تلوار سی کوئی مرے سر پرعذاب بن کے اترتی ہے آگہی مرے سر پر

تمام عمر میں ہونے کا بوجھ ڈھوتا رہا ہوںتمام عمر یہ گٹھری دھری رہی مرے سر پر

میں تھک کے اپنے ہی سائے میں آ کے بیٹھ گیا تھاکہاں سے آ کے یہ دیوار آ گری مرے سر پر

چمکتی رہتی ہے بجلی کڑکتے رہتے ہیں بادلکہیں کہیں مرے دل میں کبھی کبھی مرے سر پر

نہیں کہ صرف محبت کا دیندار بہت ہوںمرے عدو کا بھی کچھ قرض ہے ابھی مرے سر پر

لہو میں اب بھی لپکتے ہیں سر خوشی کے وہ شعلےمری بلٰی سے جو کچھ برف پڑ گئی مرے سر پر

— آفتاب حسین