6 اشعار

دل سے دم لینے کی مہلت بھی نہیں مانگتے ہیں

Dil se dam lene ki mohlat bhi nahin maangte hain

دل سے دم لینے کی مہلت بھی نہیں مانگتے ہیںاب تو ہم حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہیں

ارے کیا مانگیں گے دنیائے دنی سے ہم لوگہم کہ جو تیری عنایت بھی نہیں مانگتے ہیں

بانوئے حسن کے لکھتے ہیں قصیدے کیا کیااور عوض میں کوئی خدمت بھی نہیں مانگتے ہیں

پاؤں کے نیچے سے نکلی جو زمیں ایک طرفہم تو اب سر پہ کوئی چھت بھی نہیں مانگتے ہیں

دل کی دیواروں سے سر پھوڑتے رہتے ہیں کہ ہمشہر سے سنگ ملامت بھی نہیں مانگتے ہیں

اپنے دامن میں بس امید محبت ہی تو ہےجا کہ اب تجھ سے محبت بھی نہیں مانگتے ہیں

— آفتاب حسین