6 اشعار

انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

Ana ko baandhta rehta hoon apne she'ron mein

انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میںبلا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

گھٹن کے دن ہوں کہ جھگڑے سے چلتے رہتے ہوںہوا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

مہکتی رہتی ہے لفظوں میں کوئی خوشبو سیصبا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

وہ حال ہے کہ خموشی کلام کرتی ہےصدا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

وہ ہاتھ جیسے کہیں اب بھی دل پہ رکھا ہوحنا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

گرفت میں ہوں کسی بت کی آفتاب حسینؔخدا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

— آفتاب حسین