7 اشعار

میں سوچتا ہوں اگر اس طرف وہ آ جاتا

Main sochta hoon agar is taraf woh aa jaata

میں سوچتا ہوں اگر اس طرف وہ آ جاتاچراغ عمر کی لو اک ذرا بڑھا جاتا

عجیب بھول بھلیاں ہے راستہ دل کایہاں تو خضر بھی ہوتا تو ڈگمگا جاتا

سو اپنے ہاتھ سے دیں بھی گیا ہے دنیا بھیکہ اک سرے کو پکڑتے تو دوسرا جاتا

مگر نہیں ہے وہ مصروف ناز اتنا بھیکبھی کبھی تو کوئی رابطہ کیا جاتا

کبھی وہ پاس بلاتا تو یہ دل درویشبس اک اشارۂ ابرو پہ جھومتا جاتا

پلٹ رہا ہوں اسی یار مہرباں کی طرفاب اس قدر بھی نہیں بے وفا ہوا جاتا

پلٹ گیا انہیں قدموں سے آفتاب حسینؔکہاں تلک وہی حالات دیکھتا جاتا

— آفتاب حسین