6 اشعار

اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں حیرانی حیرانی سے

Apne aap ko dekh raha hoon hairani hairani se

اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں حیرانی حیرانی سےورنہ اور تعلق کیا ہے میرا بہتے پانی سے

ایک ذرا سی بات تھی لیکن طرح طرح کے پیچ پڑےکتنے کام آسان ہوئے ہیں اور کتنی آسانی سے

رات بہت دن بعد آئے ہیں دل کے ٹکڑے آنکھوں میںرات بہت دن بعد ملے ہیں یہ انگارے پانی سے

کب تک اپنا آپ سنبھالیں کب تک ضبط کی خو ڈالیںدل کی بات نکل جاتی ہے آنکھوں کی نادانی سے

ایک ہی منظر دیکھ رہا ہوں اس بے انت خرابے میںایک ہی صورت جھانک رہی ہے صدیوں کی ویرانی سے

ہم نے بھی ہرچند بھرا ہے سوانگ اس کھیل تماشے میںربط نہیں کھلتا اپنا کچھ اس بے ربط کہانی سے

— آفتاب حسین