6 اشعار

خوشبو کی طرح دل میں بسا کر اسے دیکھو

Khushbu ki tarah dil mein basa kar use dekho

خوشبو کی طرح دل میں بسا کر اسے دیکھولوگوں کی نگاہوں سے چھپا کر اسے دیکھو

شاید وہ سلگ اٹھا ہو یادوں کی ہوا سےفرصت ہو کسی روز تو جا کر اسے دیکھو

کیا جانے وہ فردوس نظر کب نظر آئےتصویر ہی اب اس کی اٹھا کر اسے دیکھو

پتھر سا نظر آتا ہے وہ موم کا پیکراب آئے تو سینے سے لگا کر اسے دیکھو

کہتے ہو کہ یاد اس کی وبال دل و جاں ہےایسا ہی اگر ہے تو بھلا کر اسے دیکھو

برہم ہی نظر آتا ہے ہر بات پہ وہ شوخیہ تازہ غزل آج سنا کر اسے دیکھو

— آفتاب حسین