8 اشعار

خواب تھا خواب کے اندر نظر آنے والا

Khwab tha khwab ke andar nazar aane wala

خواب تھا خواب کے اندر نظر آنے والانظر آیا نہیں منظر نظر آنے والا

سب یہی سوچ کے چلتے رہے صحراؤں میںابھی کچھ دیر میں ہے گھر نظر آنے والا

سر گرانی بھی کبھی دیکھتے میری آ کرمیں کہ ہوں آپ کو خود سر نظر آنے والا

اور کچھ دیر یوںہی سینکتے رہیے آنکھیںموم ہو سکتا ہے پتھر نظر آنے والا

یہ بھی ہو سکتا ہے حصہ ہو مرے ہونے کااک ہیولیٰ سا برابر نظر آنے والا

چاٹیے بیٹھ کے ان آنکھوں کی بینائی کوخواب وہ اب نہیں اٹھ کر نظر آنے والا

سینت کے رکھ لو کہیں دل میں محبت کی مہکپھر یہ موسم نہیں جا کر نظر آنے والا

پھڑپھڑاہٹ رہی اک عمر مری آنکھوں میںکیا پرندہ تھا وہ پل بھر نظر آنے والا

— آفتاب حسین