5 اشعار

اصل حالت کا بیاں ظاہر کے سانچوں میں نہیں

Asal haalat ka bayaan zaahir ke saanchon mein nahin

اصل حالت کا بیاں ظاہر کے سانچوں میں نہیںبات جو دل میں ہے میرے میرے لفظوں میں نہیں

اک زمانہ تھا کہ اک دنیا مرے ہم راہ تھیاور اب دیکھوں تو رستہ بھی نگاہوں میں نہیں

کوئی آسیب بلا ہے شہر پر چھایا ہوابوئے آدم زاد تک خالی مکانوں میں نہیں

رفتہ رفتہ سب ہماری راہ پر آتے گئےبات ہے جو ہم بروں میں اچھے اچھوں میں نہیں

اپنے ہی دم سے چراغاں ہے وگرنہ آفتابؔاک ستارہ بھی مری ویران شاموں میں نہیں

— آفتاب حسین