7 اشعار

کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے

Karta kuch aur hai woh dikhaata kuch aur hai

کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہےدراصل سلسلہ پس پردہ کچھ اور ہے

ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائناتدیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کچھ اور ہے

جو کچھ نگاہ میں ہے حقیقت میں وہ نہیںجو تیرے سامنے ہے تماشا کچھ اور ہے

رکھ وادئ جنوں میں قدم پھونک پھونک کراے بے خبر سنبھل کہ یہ رشتہ کچھ اور ہے

تحریر اور کچھ ہے سر متن زندگیاور حاشیے میں ہے جو حوالہ کچھ اور ہے

ہر چند دل دھڑکتا ہے پل پل گھڑی گھڑیلیکن جو آج دل کو ہے دھڑکا کچھ اور ہے

اتنی بھی احتیاط نہ کر جان آفتابؔخدشے کچھ اور ہوتے ہیں ہوتا کچھ اور ہے

— آفتاب حسین