6 اشعار

تمہارے بعد رہا کیا ہے دیکھنے کے لیے

Tumhare baad raha kya hai dekhne ke liye

تمہارے بعد رہا کیا ہے دیکھنے کے لیےاگرچہ ایک زمانہ ہے دیکھنے کے لیے

کوئی نہیں جو ورائے نظر بھی دیکھ سکےہر ایک نے اسے دیکھا ہے دیکھنے کے لیے

بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھنظر اٹھا کہ یہ دنیا ہے دیکھنے کے لیے

ذرا جو فرصت نظارگی میسر ہوتو ایک پل میں بھی کیا کیا ہے دیکھنے کے لیے

گزر رہا ہے جو چہرے پہ ہاتھ رکھے ہوئےیہ دل اسی کو ترستا ہے دیکھنے کے لیے

نہیں ہے تاب نظارہ ہی آفتابؔ حسینوگرنہ دہر میں کیا کیا ہے دیکھنے کے لیے

— آفتاب حسین