6 اشعار

یوںہی اے لذت آزار رہو

Yunhi ae lazzat-e-azaaR raho

یوںہی اے لذت آزار رہومر مٹو جس پہ اسے مار رہو

ایسی غافل بھی نہیں ہے وہ چشمآنکھ رکھتے ہو تو ہشیار رہو

وار کرنے کی اگر ہمت ہےوار سہنے کو بھی تیار رہو

خون تھکواتی ہے اس کی خواہشکہاں تک اس کے طلب گار رہو

دل میں آتے ہو چلے جاتے ہوگھر میں بھی آ کے تو اک بار رہو

کب کسی دل کو زباں ملتی ہےرہو اے حسرت اظہار رہو

— آفتاب حسین