7 اشعار

چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہم

Chalte chalte thakte chale jaate hain hum

چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہملیکن جیسے تیسے چلے جاتے ہیں ہم

طے کرتے ہیں اس کے پاس نہیں جانا ہےاور پھر پھرتے پھرتے چلے جاتے ہیں ہم

سانسوں کے آنے جانے کا کیا قصہجینا ہے سو جیے چلے جاتے ہیں ہم

آپ کا چاک ہے آپ کی مٹی آپ بتائیںبنے ہیں کچھ یا بگڑے چلے جاتے ہیں ہم

کام کوئی ہو پاتا ہے یا نہیں ہو پاتااپنی طرف سے کیے چلے جاتے ہیں ہم

اب وہ ہاتھ کہاں ہیں کہاں گئے وہ ہاتھکسے پکاریں ڈھے چلے جاتے ہیں ہم

کون ہماری سنتا ہے کس نے سننی ہےہم ہیں کہ لیکن کہے چلے جاتے ہیں ہم

— آفتاب حسین