9 اشعار

دیکھتے دیکھتے منظر سے الگ ہو جانا

Dekhte dekhte manzar se alag ho jaana

دیکھتے دیکھتے منظر سے الگ ہو جانااندر اندر کہیں باہر سے الگ ہو جانا

خود کو ٹھکرا کے لپٹ جانا کسی سائے کے ساتھاور خود اپنی ہی ٹھوکر سے الگ ہو جانا

اپنی ہی دھن میں نکلتے چلے جانا کہیں اوراور یوں اپنے ہی محور سے الگ ہو جانا

ایک عالم کو سمیٹے ہوئے رہنا خود میںاسی عالم میں جہاں بھر سے الگ ہو جانا

لطف لیتے ہوئے پرواز کا اڑنا اور پھراڑتے اڑتے کبھی شہپر سے الگ ہو جانا

سانحہ ہے کہ رہائی مجھے معلوم نہیںیہ مرا اپنے ہی اندر سے الگ ہو جانا

یہ بھی اک طرفہ ستم ہے کہ ہوا ہے مجھ پرمیرا اس دست ستم گر سے الگ ہو جانا

اس طرح سر مرا گھوما ہے کہ میں جانتا ہوںمیں کہ اب چاہتا ہوں سر سے الگ ہو جانا

سلسلہ اور ہی اب چاہیے مجھ کو یعنیاس الگ ہونے کے چکر سے الگ ہو جانا

— آفتاب حسین