5 اشعار

کسی کے انتظار میں نہیں ہوں

Kisi ke intezar mein nahin hoon

کسی کے انتظار میں نہیں ہوںنشے میں ہوں خمار میں نہیں ہوں

کسی کے ہاتھ کس طرح سے آؤںمیں اپنے اختیار میں نہیں ہوں

بھٹک رہا ہوں اپنی وسعتوں میںکہیں کسی مدار میں نہیں ہوں

شکار ہو گایا ہوں خود کسی کامیں اب کسی شکار میں نہیں ہوں

نگاہ میں ہوں آفتابؔ اپنینگاہ کردگار میں نہیں ہوں

— آفتاب حسین