6 اشعار

چٹختا رہتا ہے رات دن جو دماغ میرا

Chatakhta rehta hai raat din jo dimagh mera

چٹختا رہتا ہے رات دن جو دماغ میرامرے لہو سے بھرا نہ ہو یہ ایاغ میرا

یہ بات اس پر کھلے گی کچھ دیر بعد جا کرکہ دور جا کر ملے گا مجھ سے سراغ میرا

چلو کہیں تو کھلا ہوا ہے وہ پھول آخریہ سوچ کر ہو رہا ہے دل باغ باغ میرا

الجھ رہا تھا لہو سے نشہ خمار بن کرکسی نے پھر لا کے بھر دیا ہے ایاغ میرا

ہوا جہاں سائیں سائیں کر کے بکھر رہی ہےکبھی بجھا تھا یہیں کہیں اک چراغ میرا

ضرور کوئی نہ کوئی چکر ہے اس جہاں میںنظر اٹھاؤں تو گھومتا ہے دماغ میرا

— آفتاب حسین