8 اشعار

مرے ہی خواب کی تعبیر کرنے کے لیے ہے

Mere hi khwab ki taabeer karne ke liye hai

مرے ہی خواب کی تعبیر کرنے کے لیے ہےیہ زلف جو مجھے زنجیر کرنے کے لیے ہے

یہ سب طلسم ہر اک حرف و آگہی کا یہ اسمخود اپنے آپ کو تسخیر کرنے کے لیے ہے

دل اپنے آپ ہی آئے گا راہ پر ورنہہزار طرح کی تدبیر کرنے کے لیے ہے

سمجھ میں آتی نہیں جس کو بات ہی میریوہ میری بات کی تفسیر کرنے کے لیے ہے

کوئی نہیں جو کہے حرف دو تسلی کےجسے بھی دیکھیے تقریر کرنے کے لیے ہے

ہمیں تو ہیں کہ جو کھل کھیلتے ہیں آپ کے ساتھزمانہ آپ کی توقیر کرنے کے لیے ہے

ہمیں خبر ہے کہ یہ انہدام ہونے کاکچھ اور طرح کی تعمیر کرنے کے لیے ہے

کہیں لہو میں لرزتا ہے آفتاب حسینؔوہ ایک عکس کہ تصویر کرنے کے لیے ہے

— آفتاب حسین