7 اشعار

نظر میں عکس ہے اک آئنے کے ہونے سے

Nazar mein aks hai ek aaine ke hone se

نظر میں عکس ہے اک آئنے کے ہونے سےکہ جی رہا ہوں میں اے دوست تیرے ہونے سے

اتر نہ آئے کہیں نیند میری پلکوں پرکہ خواب ہے تو اسی رت جگے کے ہونے سے

کھلا کہ ہے کہیں مجھ میں بھی زندگی کی رمقمیں خوش ہوا ہوں کسی سانحہ کے ہونے سے

گل بہار بہت ہو چکی ہوا ہو جائیںپڑا نہ فرق کہیں کچھ ہمارے ہونے سے

اسی کی گرد میں تحلیل ہونا چاہتا ہوںبھٹک رہا ہوں میں جس راستے کے ہونے سے

مگر کبھی کبھی اک شخص یاد آتا ہےاگرچہ خوش نہیں رہتا میں اپنے ہونے سے

مچا تھا دل میں وہ اندھیر آفتاب حسینؔدکھائی کچھ نہ دیا روشنی کے ہونے سے

— آفتاب حسین