7 اشعار

چراغ خواب جلاتا ہوا چلا گیا ہوں

Chiragh-e-khwaab jalata hua chala gaya hoon

چراغ خواب جلاتا ہوا چلا گیا ہوںخود اپنی راہ بناتا ہوا چلا گیا ہوں

دم وداع کوئی بھی نہیں تھا میرے پاسمگر میں ہاتھ ہلاتا ہوا چلا گیا ہوں

وہی حدیں مجھے تقسیم کرتی جاتی تھیںمیں جن حدوں کو ملاتا ہوا چلا گیا ہوں

میں اپنی موج میں تھا اور بپھر رھی تھی وہ لہرسو اس کو ساتھ بہاتا ہوا چلا گیا ہوں

کسی خیال کی خوشبو تھی اور کچھ بھی نہ تھاجہاں میں رنگ اڑاتا ہوا چلا گیا ہوں

مجھے نہ ڈھونڈھ مرے دشت نا مراد نہ ڈھونڈھمیں اور ہی کہیں آتا ہوا چلا گیا ہوں

پلٹ بھی سکتا ہوں ہرچند آفتاب حسینؔخود اپنے نقش مٹاتا ہوا چلا گیا ہوں

— آفتاب حسین