7 اشعار

غرور یہ بھی ہنر سے نکلتا جاتا ہے

Ghuroor ye bhi hunar se nikalta jaata hai

غرور یہ بھی ہنر سے نکلتا جاتا ہےکوئی نشہ ہے کہ سر سے نکلتا جاتا ہے

رواں رہوں گا اسی یاد کے تعاقب میںکہ خواب کوئی نظر سے نکلتا جاتا ہے

نظر اسی کے نظارے میں محو رہتی ہےجو شخص میری خبر سے نکلتا جاتا ہے

میں لڑکھڑا کے پھر آیا ہوں اپنے رستہ پرجو دل میں ڈر تھا سفر سے نکلتا جاتا ہے

بجھی نہیں مرے دل میں جب اس عذاب کی آگدھواں سا کیوں مرے سر سے نکلتا جاتا ہے

فضائے تیرہ میں وہ آگ کا پرندہ ہوںکہ راستہ مرے پر سے نکلتا جاتا ہے

یہاں تو کچھ بھی نہ تھا گرد آرزو کے سوایہ راستہ سا کدھر سے نکلتا جاتا ہے

— آفتاب حسین