11 اشعار

یہ اور بات مکرر سنا گیا ہم سے

Ye aur baat mukarrar suna gaya hum se

یہ اور بات مکرر سنا گیا ہم سےخود اپنا حال سنا کر سنا گیا ہم سے

ہم اس میں اپنی کہانی بھی ڈال دیتے تھےوہ اک فسانہ کہ اکثر سنا گیا ہم سے

ہمارے گیتوں میں اشکوں کی آب داری تھیسو جل ترنگ بجا کر سنا گیا ہم سے

تمام رات ستارے تھے گوش بر آوازتمام رات برابر سنا گیا ہم سے

نظر میں رکھی تھی وہ آنکھ بولتی ہوئی آنکھندی میں شور تھا گھر پر سنا گیا ہم سے

ہمارے زخم لکھے تھے زمیں کے ذروں میںہمارا درد فلک پر سنا گیا ہم سے

لہو میں اب بھی تلاطم مچائے رکھتی ہےوہ اک صدا جسے کم تر سنا گیا ہم سے

یہی نہیں انہیں ہم خود سنانے جاتے تھےہمارے پاس بھی آ کر سنا گیا ہم سے

نظر میں اڑتی تھی ان دیکھے منظروں کی گردوہ رہ گزر تھی مگر گھر سنا گیا ہم سے

کبھی کبھی کوئی آواز دیکھنے میں آئیکہیں کہیں کوئی منظر سنا گیا ہم سے

ہمارے پاس بھی اک زخم ہے دکھانے کواگر کبھی سر محشر سنا گیا ہم سے

— آفتاب حسین