7 اشعار

دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمی

De rahe hain jis ko topoon ki salaami aadmi

دے رہے ہیں جس کو توپوں کی سلامی آدمیکیا کہوں تم سے کہ ہے کتنا حرامی آدمی

بھیڑ چھٹ جائے گی تب اس کی سمجھ میں آئے گاایک اکیلا آدمی ہے اژدہامی آدمی

کیا دکھاتے ہو میاں، پرچہ ہمیں اخبار کاہم نے دیکھے ہیں بہت نامی گرامی آدمی

پاؤں میں جوتا نہیں ہے، پیٹ میں روٹی نہیںلے کے کیا چاٹے گا خالی نیک نامی آدمی

اٹھ کے جا بیٹھا وہی اشرافیہ کی گود میںہم غریبوں نے جسے سمجھا عوامی آدمی

قیس صاحب کس لیے بھٹکیں گے نجد شوق میںمل ہی جائے گا کوئی ہم سا مقامی آدمی

دل کہ ہے شیرازۂ ہستی ہوا کی زد پہ ہےآدمی، اے آدمی، اے انتظامی آدمی

— آفتاب حسین