4 اشعار

گزرتے وقت کی کوئی نشانی ساتھ رکھتا ہوں

Guzarte waqt ki koi nishaani saath rakhta hoon

گزرتے وقت کی کوئی نشانی ساتھ رکھتا ہوںکہ میں ٹھہراؤ میں بھی اک روانی ساتھ رکھتا ہوں

سمجھ میں خود مری آتا نہیں حالات کا چکرمکاں رکھتا نہیں ہوں لا مکانی ساتھ رکھتا ہوں

گزرنا ہے مجھے کتنے غبار آلود رستوں سےسو اپنی آنکھ میں تھوڑا سا پانی ساتھ رکھتا ہوں

فنا ہونا اگر لکھا گیا ہے میرے ہونے میںتو میں تجھ کو بھی اے دنیائے فانی ساتھ رکھتا ہوں

— آفتاب حسین