6 اشعار

کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیا

Kisi tarah bhi to woh raah par nahin aaya

کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیاہمارے کام ہمارا ہنر نہیں آیا

وہ یوں ملا تھا کہ جیسے کبھی نہ بچھڑے گاوہ یوں گیا کہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

ہم آپ اپنا مقدر سنوار لیتے مگرہمارے ہاتھ کف کوزہ گر نہیں آیا

خبر تو تھی کہ مآل سفر ہے کیا لیکنخیال ترک سفر عمر بھر نہیں آیا

میں اپنی آنکھ کے روزن سے دیکھ سکتا ہوںوہ پھول بھی جو ابھی شاخ پر نہیں آیا

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہتابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

— آفتاب حسین