5 اشعار

منزل ہاتھ نہیں آ پاتی خواب ادھورا رہ جاتا ہے

Manzil haath nahin aa paati khwaab adhoora reh jaata hai

منزل ہاتھ نہیں آ پاتی خواب ادھورا رہ جاتا ہےراہ طلب پر چلتے چلتے آدمی آدھا رہ جاتا ہے

کبھی کبھی تو دل کی دھڑکن بند بھی ہو جاتی ہے صاحبکبھی کبھی تو سینے میں بس درد دھڑکتا رہ جاتا ہے

تجھ کو بھول چکے ہیں ہم بھی لیکن ایسی بات نہیں کچھسورج ڈوب بھی جائے اگر تو ایک دھندلکا رہ جاتا ہے

چلنے والے چلتے چلتے اپنی منزل پا لیتے ہیںراہ دکھانے والا بوڑھا راہ دکھاتا رہ جاتا ہے

وقت کا پہیہ چلے تو پھر کب چل سکتا ہے زور کسی کاآدمی اپنے آپ کو کیا کیا چیز سمجھتا رہ جاتا ہے

— آفتاب حسین