6 اشعار

دیکھتے رہتے ہیں یوں دیدۂ نم سے کوئی خواب

Dekhte rehte hain yun dida-e-nam se koi khwab

دیکھتے رہتے ہیں یوں دیدۂ نم سے کوئی خوابجس طرح ہم نے بدل رکھا ہو غم سے کوئی خواب

کس سے کہیے یہ پریشاں نظری سی کیا ہےکسی عجلت میں کہیں کھو گیا ہم سے کوئی خواب

پھیر لی تو نے نظر اور نہ کھلا یہ تجھ پرباندھ رکھا تھا تری چشم کرم سے کوئی خواب

دل میں اترے کئی خنجر سے تمناؤں کےاور آنکھوں میں چلے تیغ دو دم سے کوئی خواب

یہ جو ہونے میں نہ ہونا سا نظر آتا ہےکہیں ٹکرا گیا ہے خواب عدم سے کوئی خواب

جانے کس عمر میں تعبیر کا دن آئے گالیے پھرتا ہوں کسی پچھلے جنم سے کوئی خواب

— آفتاب حسین