5 اشعار

مرے سخن میں جو حرف و بیاں کا ذائقہ ہے

Mere sukhan mein jo harf o bayan ka zaiqa hai

مرے سخن میں جو حرف و بیاں کا ذائقہ ہےیہ سارا ذوق کسی کی زباں کا ذائقہ ہے

بہت مزے کے مناظر ہیں میری آنکھوں میںمگر کچھ اور ہمارے یہاں کا ذائقہ ہے

اتر گئی جو گلے سے یہ زندگی تو کھلاحقیقتوں میں بھی کچھ داستاں کا ذائقہ ہے

اڑائے پھرتی ہے پھر خاک خواب کی خوشبوابھی تو منہ میں مرے رائیگاں کا ذائقہ ہے

جو سچ کہوں تو اسی میں ہے لطف ہونے کاکہیں کہیں جو یہ زہر زیاں کا ذائقہ ہے

— آفتاب حسین