8 اشعار

دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

Dhoop jab dhal gayi to saaya nahin

دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیںیہ تعلق تو کوئی رشتہ نہیں

لوگ کس کس طرح سے زندہ ہیںہمیں مرنے کا بھی سلیقہ نہیں

سوچیے تو ہزار پہلو ہیںدیکھیے بات اتنی سادہ نہیں

خواب بھی اس طرف نہیں آتےاس مکاں میں کوئی دریچہ نہیں

چلو مر کر کہیں ٹھکانے لگیںہم کہ جن کا کوئی ٹھکانا نہیں

منزلیں بھی نہیں مقدر میںاور پلٹنا ہمیں گوارا نہیں

دوسروں سے بھی ربط ضبط رکھیںزندگی ہے کوئی جزیرہ نہیں

کب بھٹک جائے آفتابؔ حسینآدمی کا کوئی بھروسہ نہیں

— آفتاب حسین