8 اشعار

دل بھی آپ کو بھول چکا ہے

Dil bhi aap ko bhool chuka hai

دل بھی آپ کو بھول چکا ہےصاحب آپ سے پردہ کیا ہے

کہنے سننے کی باتیں ہیںکون کسے اپنا سکتا ہے

عشق میں کیا سچا کیا جھوٹایہ تو عمروں کا رونا ہے

حال ہمارا پوچھنے والےکیا بتلائیں سب اچھا ہے

کیا کیا بات نہ بن سکتی تھیلیکن اب کیا ہو سکتا ہے

اب بھی دل کے دروازے پرایک دیا جلتا رہتا ہے

کب تک ساتھ نبھاتا آخروہ بھی دنیا میں رہتا ہے

دنیا پر کیوں دوش دھریں ہماپنا دل بھی کب اپنا ہے

— آفتاب حسین