6 اشعار

شب سیاہ پہ وا روشنی کا باب تو ہو

Shab-e-siyah pe waa roshni ka baab to ho

شب سیاہ پہ وا روشنی کا باب تو ہومگر یہ شرط ہے کوئی ستارہ یاب تو ہو

میں حرف بن کے تری روح میں اتر جاؤںمرا سخن تری محفل میں باریاب تو ہو

سواد شب کے سفر میں ستارہ وار چلوںترے جمال کی لو میری ہم رکاب تو ہو

کسی طرح تو گھٹے دل کی بے قراری بھیچلو وہ چشم نہیں کم سے کم شراب تو ہو

اساس جسم اٹھاؤں نئے سرے سے مگریہ سوچتا ہوں کہ مٹی مری خراب تو ہو

وہ آفتابؔ لب بام بھی اتر آئےمگر کسی میں اسے دیکھنے کی تاب تو ہو

— آفتاب حسین