7 اشعار

دلوں میں اب اگر ایسے خلا کی لعنت ہے

Dilon mein ab agar aise khala ki la'nat hai

دلوں میں اب اگر ایسے خلا کی لعنت ہےیہ زندگانی نہیں ہے خدا کی لعنت ہے

ہمیں خبر ہے کہ انجام کار کیا ہو گاشروع کار ہے اور انتہا کی لعنت ہے

قیام کیسے کریں ہم قرار کیسے ہونصیب میں ہی اگر جابجا کی لعنت ہے

ہمارے پاؤں زمیں پر جمے تو کیسے جمےیہ وہ زمین ہے جس میں بلا کی لعنت ہے

تم اپنے حبس کی حالت میں گھٹ کے مر رہے ہومیں جس جگہ ہوں وہاں پر ہوا کی لعنت ہے

دعا کرو کوئی دشمن نصیب ہو جائےکہ آشنا پہ یہاں آشنا کی لعنت ہے

نکلتے جاتے ہیں سب اور آفتاب حسینؔہمارے ساتھ ابھی تک وفا کی لعنت ہے

— آفتاب حسین