5 اشعار

روحوں کی خاموشی میں آواز لگاتے رہا کرو

Roohon ki khamoshi mein awaaz lagate raha karo

روحوں کی خاموشی میں آواز لگاتے رہا کروزندہ ہو تو ہونے کا احساس دلاتے رہا کرو

جو بھی سچی بات کہے گا زہر لگے گا دنیا کواپنے سچ میں تھوڑا تھوڑا جھوٹ ملاتے رہا کرو

شہر میں گرچہ گرد بہت ہے دھواں بہت ہے لیکن تمآنکھوں کے جھلمل پردوں پر خواب سجاتے رہا کرو

آنکھ سے اوجھل ہونے والے دل سے ہو جاتے ہیں دورپیار اگر قائم رکھنا ہے آتے جاتے رہا کرو

اسی طرح سے کھیل کھیل میں سارے دن کٹ جائیں گےمیں بے چین سا پھرا کروں گا تم یاد آتے رہا کرو

— آفتاب حسین