7 اشعار

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

Faseel-e-shehr-e-tamanna mein dar banaate hue

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئےیہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے

نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کوکہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے

میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیںگزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے

کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرےشب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے

پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہےکبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے

مگر یہ دل مرا یہ طائر بہشت مرااتر ہی آیا کہیں مستقر بناتے ہوئے

دلوں کے باب میں کیا دخل آفتاب حسینؔسو بات پھیل گئی مختصر بناتے ہوئے

— آفتاب حسین