6 اشعار

گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں

Gaye manzaron se yeh kya uda hai nigaah mein

گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میںکوئی عکس ہے کہ غبار سا ہے نگاہ میں

ہمہ وقت اپنی شبیہ کے ہوں میں روبروکوئی اشک ہے کہ یہ آئینہ ہے نگاہ میں

کوئی شہر خواب گزر رہا ہے خیال سےکوئی دشت شام سلگ رہا ہے نگاہ میں

کف درد سے غم کائنات کی گرد سےوہی مٹ رہا ہے جو نقش سا ہے نگاہ میں

کوئی تیرگی ہے فرات جاں میں رواں دواںمگر اک چراغ سا تیرتا ہے نگاہ میں

گئے موسموں کی وہ سبز رنگ حکایتیںکوئی آب سرخ سے لکھ گیا ہے نگاہ میں

— آفتاب حسین