10 اشعار

راستہ خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

Raasta khwaab ke andar se nikalta hua tha

راستہ خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھاکوئی کیا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

وہ مہک تھی کہ مجھے نیند سی آنے لگی تھیپھول سا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

یہ کسی خواب کا احوال نہیں ہے کہ میں خوابدیکھتا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

خواب تھے جیسے پرندوں نے پرے باندھے ہوںسلسلہ خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

مجھ کو دنیا کے سمجھنے میں ذرا دیر لگیمیں ذرا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

نظر اٹھتی تھی جدھر بھی مری منظر منظرزاویہ خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

وہ نکلتا ہوا تھا خواب کدے سے اپنےخواب تھا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

اک سرا جا کے پہنچتا تھا تری یادوں تکدوسرا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

کیا بتاؤں کوئی ایمان کہاں لائے گاکہ خدا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

صبح جب آنکھ کھلی لوگوں کی لوگوں پہ کھلاجو بھی تھا خواب کے اندر سے نکلتا ہوا تھا

— آفتاب حسین