8 اشعار

گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ (ردیف .. ٔ)

Ghaṛi ghaṛi use roko ghaṛi ghaṛi samjhaao

گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤمگر یہ دل ہے کہ کچھ دیکھتا ہے آؤ نہ تاؤ

اب اس کے درد کو دل میں لیے تڑپتے ہوکہا تھا کس نے کہ اس خوش نظر سے آنکھ ملاؤ

عجب طرح کے جھمیلے ہیں عشق میں صاحببرت سکو تو ہو معلوم آٹے دال کا بھاؤ

چلو وہ اگلا سا جوش و خروش تو نہ رہامگر یہ کیا کہ ملو اور ہاتھ بھی نہ ملاؤ

نظر ہے شرط حقیقت کو دیکھنے کے لیےکہ ہر بگاڑ میں ہوتے ہیں سو طرح کے بناؤ

ہمارے حال کا کیا ہے سدھر ہی جائے گامگر یہ بات کہ تم اپنی الجھی لٹ سلجھاؤ

ہماری عمر بھی گزری ہے اس خرابے میںکہاں کے ہوتے ہیں یہ لوگ اہل عشق ہٹاؤ

کبھی کھلو بھی یہ کیا ہے کہ آفتاب حسینؔپڑے رہو یوں ہی گھر پر کسی کے آؤ نہ جاؤ

— آفتاب حسین