5 اشعار

جب سفر سے لوٹ کر آنے کی تیاری ہوئی

Jab safar se laut kar aane ki taiyari hui

جب سفر سے لوٹ کر آنے کی تیاری ہوئیبے تعلق تھی جو شے وہ بھی بہت پیاری ہوئی

چار سانسیں تھیں مگر سینے کو بوجھل کر گئیںدو قدم کی یہ مسافت کس قدر بھاری ہوئی

ایک منظر ہے کہ آنکھوں سے سرکتا ہی نہیںایک ساعت ہے کہ ساری عمر پر طاری ہوئی

اس طرح چالیں بدلتا ہوں بساط دہر پرجیت لوں گا جس طرح یہ زندگی ہاری ہوئی

کن طلسمی راستوں میں عمر کاٹی آفتابؔجس قدر آساں لگا اتنی ہی دشواری ہوئی

— آفتاب حسین