6 اشعار

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے

Kisi nazar ne mujhe jaam par lagaya hua hai

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہےسو کرتا رہتا ہوں جس کام پر لگایا ہوا ہے

غلط پڑے نہ کہیں پہلا ہی قدم یہ ہماراکہ ہم نے آنکھ کو انجام پر لگایا ہوا ہے

تمام شہر مشرف بہ کفر ہو کے رہے گایہ جس قماش کے اسلام پر لگایا ہوا ہے

لگا رکھے ہیں ہزاروں ہی اپنے کام پر اس نےہمیں بھی کوشش ناکام پر لگایا ہوا ہے

پلاتا رہتا ہوں دن رات اپنی آنکھ سے پانیشجر یہ دل میں ترے نام پر لگایا ہوا ہے

وہ اور ہوں گے جو آرام سے گزار رہے ہیںہمیں تو اس نے کہیں لام پر لگایا ہوا ہے

— آفتاب حسین