10 اشعار

مرے لہو سے گزرتا ہوا ملا ہے مجھے

Mere lahoo se guzarta hua mila hai mujhe

مرے لہو سے گزرتا ہوا ملا ہے مجھےاب ایک عمر پہ جو راستہ ملا ہے مجھے

رواں رہے گا مرے دل میں زندگی کی طرحجو ایک زہر بہ طور دوا ملا ہے مجھے

میں اس زمین و زمانہ پہ خاک ڈالتا ہوںکہ تو ملا نہیں مجھ کو تو کیا ملا ہے مجھے

اب اس مقام پہ ہوں میں خبر نہیں مجھ کوبچھڑ گیا ہے کوئی مجھ سے یا ملا ہے مجھے

میں آئنے کو کدورت سے کیا بچا پاتازمانہ گرد اڑاتا ہوا ملا ہے مجھے

اب آپ اپنا لہو چاٹتا ہوں سوچتا ہوںبہت دنوں میں کہیں ذائقہ ملا ہے مجھے

زباں ہلی تو لبوں پر لگی ہے جبر کی مہرجو چپ ہوا ہوں تو سنگ صدا ملا ہے مجھے

ملا ہی کیا مجھے تیرے بھرے خزانوں سےیہ ایک دل کہ ترستا ہوا ملا ہے مجھے

خود اپنے آپ سے مل کر خوشی ہوئی ہے آجچلو کہیں تو کوئی آشنا ملا ہے مجھے

رواں دواں ہوں میں ہرچند آفتاب حسینؔہر اک قدم پہ کوئی سانحہ ملا ہے مجھے

— آفتاب حسین