6 اشعار

ہمارے دل میں کوئی یاد ہے تو کس لیے ہے

Hamare dil mein koi yaad hai to kis liye hai

ہمارے دل میں کوئی یاد ہے تو کس لیے ہےیہ دل جو یاد سے آباد ہے تو کس لیے ہے

ہمارے سر پہ ہی کیوں آسمان ٹوٹتا ہےزمین کی کوئی بنیاد ہے تو کس لیے ہے

وہی پہاڑ سی راتیں وہی پہاڑ سے دناگر کہیں کوئی فریاد ہے تو کس لیے ہے

میں اپنے سر پہ گرا ہوں عذاب کے مانندمرے لیے کوئی افتاد ہے تو کس لیے ہے

وہ سامنے تھا تو ہر اک کو چپ لگی ہوئی تھیچلا گیا ہے تو فریاد ہے تو کس لیے ہے

مرے وجود پہ بیداد کرنے والوں کیمرے کلام پہ یہ داد ہے تو کس لیے ہے

— آفتاب حسین