12 اشعار

کہیں کہیں جو ذرا حاشیہ چڑھا ہوا ہے

Kahin kahin jo zara hashiya chadha hua hai

کہیں کہیں جو ذرا حاشیہ چڑھا ہوا ہےبیان میرا ہے لیکن بڑھا چڑھا ہوا ہے

یوںہی نہیں ہے لہو میں یہ لہر مستی کیکسی کے ہاتھ پہ رنگ حنا چڑھا ہوا ہے

یوںہی نہیں ہے یہ لفظوں میں لڑکھڑاہٹ سیکسی کے دھیان میں ہوں اور نشہ چڑھا ہوا ہے

وہی اب آن کے تریاق کچھ کرے تو کرےوہ سانپ جس کا مجھے زہر سا چڑھا ہوا ہے

وہی ہیں ہم وہی بستر ہے اپنے خوابوں کاغلاف ہی ہے فقط جو نیا چڑھا ہوا ہے

دعائیں ہم نے تو مانگی تھیں ابر رحمت کییہ کیا کہ شہر پہ سیل بلا چڑھا ہوا ہے

میں نیچے والے پہ چڑھ دوڑتا ہوں سوچتا ہوںکہ میرے سر پہ بھی مجھ سے بڑا چڑھا ہوا ہے

یہ قوم ہے کہ سواری کا جانور ہے کوئیکہ ایک اتر گیا ہے دوسرا چڑھا ہوا ہے

زمین پر ہی پٹخ دوں نہ آسمان کو میںکہ یہ شریر مرے سر پہ کیا چڑھا ہوا ہے

بہک رہا ہوں اگر میں مئے محبت سےفقیہ شہر کو خوف خدا چڑھا ہوا ہے...

اتار پر ہی سمجھیے رفاقتوں کا نشہکہ دیکھتے ہیں جسے بھی چڑھا چڑھا ہوا ہے

اب اپنی موج میں ہوں میں خبر نہیں مجھ کواتر گیا ہے وہ دریا سا یا چڑھا ہوا ہے

— آفتاب حسین