6 اشعار

ہر ایک راہ گزر سے گزارہ مقصد تھا

Har ek raah guzar se guzaara maqsad tha

ہر ایک راہ گزر سے گزارہ مقصد تھاسمندروں میں رہے اور کنارہ مقصد تھا

شکار کرنے کو تھے یا شکار ہونے کو ہموہ سب سمجھتا تھا سب آشکارا مقصد تھا

کسی کو یاد نہ رکھنے میں بھول جانے میںکسی سے کیا کہیں ہم کیا ہمارا مقصد تھا

یہ اختلاف کے پہلو تو بعد میں نکلےکہ مشترک بھی ہمارا تمہارا مقصد تھا

ادھر سے بات ہی چل نکلی ہے تو کیا کیجےوگرنہ اپنا تو ایک آدھ اشارہ مقصد تھا

یہ کھیل کھیلا گیا ہارنے کی خواہش میںوہ کاروبار ہوں جس میں خسارہ مقصد تھا

— آفتاب حسین